EN हिंदी
امام بخش ناسخ شیاری | شیح شیری

امام بخش ناسخ شیر

42 شیر

معشوقوں سے امید وفا رکھتے ہو ناسخؔ
ناداں کوئی دنیا میں نہیں تم سے زیادہ

امام بخش ناسخ




شبہ ناسخؔ نہیں کچھ میرؔ کی استادی میں
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں

امام بخش ناسخ




رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیں
جس سر زمیں کے ہم ہیں وہاں آسماں نہیں

امام بخش ناسخ




رشک سے نام نہیں لیتے کہ سن لے نہ کوئی
دل ہی دل میں اسے ہم یاد کیا کرتے ہیں

امام بخش ناسخ




رات دن ناقوس کہتے ہیں بآواز بلند
دیر سے بہتر ہے کعبہ گر بتوں میں تو نہیں

امام بخش ناسخ




منہ آپ کو دکھا نہیں سکتا ہے شرم سے
اس واسطے ہے پیٹھ ادھر آفتاب کی

امام بخش ناسخ




کیا روز بد میں ساتھ رہے کوئی ہم نشیں
پتے بھی بھاگتے ہیں خزاں میں شجر سے دور

امام بخش ناسخ




خواب ہی میں نظر آ جائے شب ہجر کہیں
سو مجھے حسرت دیدار نے سونے نہ دیا

her, on the eve of separation, in dreams I'd hoped to sight
but the yearning for her vision kept me up all night

امام بخش ناسخ




کس طرح چھوڑوں یکایک تیری زلفوں کا خیال
ایک مدت کے یہ کالے ناگ ہیں پالے ہوئے

امام بخش ناسخ