میں ترے واسطے آئینہ تھا
اپنی صورت کو ترس اب کیا ہے
غلام مرتضی راہی
پہلے اس نے مجھے چنوا دیا دیوار کے ساتھ
پھر عمارت کو مرے نام سے موسوم کیا
غلام مرتضی راہی
پہلے چنگاری اڑا لائی ہوا
لے کے اب راکھ اڑی جاتی ہے
غلام مرتضی راہی
نہ جانے قید میں ہوں یا حفاظت میں کسی کی
کھنچی ہے ہر طرف اک چار دیواری سی کوئی
غلام مرتضی راہی
میری پہچان بتانے کا سوال آیا جب
آئنوں نے بھی حقیقت سے مکرنا چاہا
غلام مرتضی راہی
میری کشتی کو ڈبو کر چین سے بیٹھے نہ تو
اے مرے دریا! ہمیشہ تجھ میں طغیانی رہے
غلام مرتضی راہی
کتنا بھی رنگ و نسل میں رکھتے ہوں اختلاف
پھر بھی کھڑے ہوئے ہیں شجر اک قطار میں
غلام مرتضی راہی
کسی کی راہ میں آنے کی یہ بھی صورت ہے
کہ سایہ کے لیے دیوار ہو لیا جائے
غلام مرتضی راہی
کسی نے بھیج کر کاغذ کی کشتی
بلایا ہے سمندر پار مجھ کو
غلام مرتضی راہی

