تیرا دیوانہ تو وحشت کی بھی حد سے نکلا
کہ بیاباں کو بھی چاہے ہے بیاباں ہونا
غلام مولیٰ قلق
نالہ کرتا ہوں لوگ سنتے ہیں
آپ سے میرا کچھ کلام نہیں
غلام مولیٰ قلق
نہ یہ ہے نہ وہ ہے نہ میں ہوں نہ تو ہے
ہزاروں تصور اور اک آرزو ہے
غلام مولیٰ قلق
نہ لگتی آنکھ تو سونے میں کیا برائی تھی
خبر کچھ آپ کی ہوتی تو بے خبر ہوتا
غلام مولیٰ قلق
نہ ہو آرزو کچھ یہی آرزو ہے
فقط میں ہی میں ہوں تو پھر تو ہی تو ہے
غلام مولیٰ قلق
موسیٰ کے سر پہ پاؤں ہے اہل نگاہ کا
اس کی گلی میں خاک اڑی کوہ طور کی
غلام مولیٰ قلق
محبت وہ ہے جس میں کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا
جو ہو سکتا ہے وہ بھی آدمی سے ہو نہیں سکتا
غلام مولیٰ قلق
میں راز داں ہوں یہ کہ جہاں تھا وہاں نہ تھا
تو بد گماں ہے وہ کہ جہاں ہے وہاں نہیں
غلام مولیٰ قلق
کیوں کر نہ آستیں میں چھپا کر پڑھیں نماز
حق تو ہے یہ عزیز ہیں بت ہی خدا کے بعد
غلام مولیٰ قلق

