سوز غم سے اشک کا ایک ایک قطرہ جل گیا
آگ پانی میں لگی ایسی کہ دریا جل گیا
عزیز لکھنوی
پھوٹ نکلا زہر سارے جسم میں
جب کبھی آنسو ہمارے تھم گئے
عزیز لکھنوی
پیدا وہ بات کر کہ تجھے روئیں دوسرے
رونا خود اپنے حال پہ یہ زار زار کیا
create that aspect in yourself that others cry for thee
عزیز لکھنوی
مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں
یہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوں
عزیز لکھنوی
مجھ کو کعبہ میں بھی ہمیشہ شیخ
یاد ایام بت پرستی تھی
عزیز لکھنوی
مرے دہن میں اگر آپ کی زباں ہوتی
تو پھر کچھ اور ہی عنوان داستاں ہوتا
عزیز لکھنوی
منزل ہستی میں اک یوسف کی تھی مجھ کو تلاش
اب جو دیکھا کارواں کا کارواں ملتا نہیں
عزیز لکھنوی
میں تو ہستی کو سمجھتا ہوں سراسر اک گناہ
پاک دامانی کا دعویٰ ہو تو کس بنیاد پر
عزیز لکھنوی
مانا کہ بزم حسن کے آداب ہیں بہت
جب دل پہ اختیار نہ ہو کیا کرے کوئی
عزیز لکھنوی

