EN हिंदी
عزیز لکھنوی شیاری | شیح شیری

عزیز لکھنوی شیر

54 شیر

سوز غم سے اشک کا ایک ایک قطرہ جل گیا
آگ پانی میں لگی ایسی کہ دریا جل گیا

عزیز لکھنوی




پھوٹ نکلا زہر سارے جسم میں
جب کبھی آنسو ہمارے تھم گئے

عزیز لکھنوی




پیدا وہ بات کر کہ تجھے روئیں دوسرے
رونا خود اپنے حال پہ یہ زار زار کیا

create that aspect in yourself that others cry for thee

عزیز لکھنوی


ٹیگز: | مشھورا | | تعظیم |


مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں
یہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوں

عزیز لکھنوی




مجھ کو کعبہ میں بھی ہمیشہ شیخ
یاد ایام بت پرستی تھی

عزیز لکھنوی




مرے دہن میں اگر آپ کی زباں ہوتی
تو پھر کچھ اور ہی عنوان داستاں ہوتا

عزیز لکھنوی




منزل ہستی میں اک یوسف کی تھی مجھ کو تلاش
اب جو دیکھا کارواں کا کارواں ملتا نہیں

عزیز لکھنوی




میں تو ہستی کو سمجھتا ہوں سراسر اک گناہ
پاک دامانی کا دعویٰ ہو تو کس بنیاد پر

عزیز لکھنوی




مانا کہ بزم حسن کے آداب ہیں بہت
جب دل پہ اختیار نہ ہو کیا کرے کوئی

عزیز لکھنوی