پیدا وہ بات کر کہ تجھے روئیں دوسرے
رونا خود اپنے حال پہ یہ زار زار کیا
create that aspect in yourself that others cry for thee
عزیز لکھنوی
شیشۂ دل کو یوں نہ اٹھاؤ
دیکھو ہاتھ سے چھوٹا ہوتا
عزیز لکھنوی
شمع بجھ کر رہ گئی پروانہ جل کر رہ گیا
یادگار حسن و عشق اک داغ دل پر رہ گیا
عزیز لکھنوی
سبق آ کے گور غریباں سے لے لو
خموشی مدرس ہے اس انجمن میں
عزیز لکھنوی
قتل اور مجھ سے سخت جاں کا قتل
تیغ دیکھو ذرا کمر دیکھو
عزیز لکھنوی
قفس میں جی نہیں لگتا ہے آہ پھر بھی مرا
یہ جانتا ہوں کہ تنکا بھی آشیاں میں نہیں
عزیز لکھنوی
پھوٹ نکلا زہر سارے جسم میں
جب کبھی آنسو ہمارے تھم گئے
عزیز لکھنوی
میں تو ہستی کو سمجھتا ہوں سراسر اک گناہ
پاک دامانی کا دعویٰ ہو تو کس بنیاد پر
عزیز لکھنوی
منزل ہستی میں اک یوسف کی تھی مجھ کو تلاش
اب جو دیکھا کارواں کا کارواں ملتا نہیں
عزیز لکھنوی

