نہ نشیمن ہے نہ ہے شاخ نشیمن باقی
لطف جب ہے کہ کرے اب کوئی برباد مجھے
عرش ملسیانی
اس انتہائے ترک محبت کے باوجود
ہم نے لیا ہے نام تمہارا کبھی کبھی
عرش ملسیانی
جتنی وہ مرے حال پہ کرتے ہیں جفائیں
آتا ہے مجھے ان کی محبت کا یقیں اور
More the cruelty from her that I receive
more in her affection for me do I believe
عرش ملسیانی
خشک باتوں میں کہاں ہے شیخ کیف زندگی
وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے
o priest where is the pleasure in this world when dry and sere
tis only when one drinks will then the joy truly appea
عرش ملسیانی
موت ہی انسان کی دشمن نہیں
زندگی بھی جان لے کر جائے گی
عرش ملسیانی
محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے
خموشی بھی ہے یہ آواز بھی ہے
عرش ملسیانی
توبہ توبہ یہ بلا خیز جوانی توبہ
دیکھ کر اس بت کافر کو خدا یاد آیا
عرش ملسیانی
وہ صحرا جس میں کٹ جاتے ہیں دن یاد بہاراں سے
بالفاظ دگر اس کو چمن کہنا ہی پڑتا ہے
عرش ملسیانی
تری دنیا کو اے واعظ مری دنیا سے کیا نسبت
تری دنیا میں تقدیریں میری دنیا میں تدبیریں
عرش ملسیانی

