نزدیک کی عینک سے اسے کیسے میں ڈھونڈوں
جو دور کی عینک ہے کہیں دور پڑی ہے
انور مسعود
مسجد کا یہ مائک جو اٹھا لائے ہو اے انورؔ
کیا جانئے کس وقت اذاں دینے لگے گا
انور مسعود
میں نے انورؔ اس لیے باندھی کلائی پر گھڑی
وقت پوچھیں گے کئی مزدور بھی رستے کے بیچ
انور مسعود
میں اپنے دشمنوں کا کس قدر ممنون ہوں انورؔ
کہ ان کے شر سے کیا کیا خیر کے پہلو نکلتے ہیں
انور مسعود
جدا ہوگی کسک دل سے نہ اس کی
جدا ہوتے ہوئے اچھا لگا تھا
انور مسعود
جو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہے
رونے کو چھپانا ہوتا ہے
انور مسعود
جانے کس رنگ سے روٹھے گی طبیعت اس کی
جانے کس ڈھنگ سے اب اس کو منانا ہوگا
انور مسعود
آئنہ دیکھ ذرا کیا میں غلط کہتا ہوں
تو نے خود سے بھی کوئی بات چھپا رکھی ہے
انور مسعود
ادھر سے لیا کچھ ادھر سے لیا
یونہی چل رہے ہیں ادارے ترے
انور مسعود

