EN हिंदी
انور دہلوی شیاری | شیح شیری

انور دہلوی شیر

28 شیر

نیند کا کام گرچہ آنا ہے
میری آنکھوں میں پر نہیں آتی

انور دہلوی




نظر آئے کیا مجھ سے فانی کی صورت
کہ پنہاں ہوں درد نہانی کی صورت

انور دہلوی




ناکامیٔ وصال کا پیغام ہے مجھے
شیریں کا ذکر بھی نہ کرو کوہ کن کے ساتھ

انور دہلوی




نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے
پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے

انور دہلوی




مٹی خراب ہے ترے کوچہ میں ورنہ ہم
اب تک تو جس زمیں پہ رہے آسماں رہے

انور دہلوی




اللہ رے فرط شوق اسیری کی شوق میں
پہروں اٹھا اٹھا کے سلاسل کو دیکھنا

انور دہلوی




مری نمود سے پیدا ہے رنگ ناکامی
پسا ہوا ہوں کسی کے حنا لگانے کا

انور دہلوی




میں گرفتار وفا ہوں چھٹ کے جاؤں گا کہاں
بال باندھا چور ہوں ہر تار زلف یار کا

انور دہلوی




کچھ خبر ہوتی تو میں اپنی خبر کیوں رکھتا
یہ بھی اک بے خبری تھی کہ خبردار رہا

انور دہلوی