مضطرب ہیں موجیں کیوں اٹھ رہے ہیں طوفاں کیوں
کیا کسی سفینے کو آرزوئے ساحل ہے
Why are the waves so agitated, why do storms unfold?
Does a ship amidst the seas, seek the shores again?
امیر قزلباش
سنا ہے اب بھی مرے ہاتھ کی لکیروں میں
نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے
امیر قزلباش
صبح تک میں سوچتا ہوں شام سے
جی رہا ہے کون میرے نام سے
امیر قزلباش
قتل ہو تو میرا سا موت ہو تو میری سی
میرے سوگواروں میں آج میرا قاتل ہے
Today amongst my mourners, my murderer too grieves
A death, a murder as was mine, all lovers should attain
امیر قزلباش
پوچھا ہے غیر سے مرے حال تباہ کو
اظہار دوستی بھی کیا دشمنی کے ساتھ
امیر قزلباش
مرے پڑوس میں ایسے بھی لوگ بستے ہیں
جو مجھ میں ڈھونڈ رہے ہیں برائیاں اپنی
امیر قزلباش
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
امیر قزلباش
تم راہ میں چپ چاپ کھڑے ہو تو گئے ہو
کس کس کو بتاؤگے کہ گھر کیوں نہیں جاتے
امیر قزلباش
مجھ سے بچ بچ کے چلی ہے دنیا
میرے نزدیک خدا ہو جیسے
امیر قزلباش

