EN हिंदी
علی سردار جعفری شیاری | شیح شیری

علی سردار جعفری شیر

20 شیر

پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں
نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے

علی سردار جعفری




بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئے
وہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگا

علی سردار جعفری




پرتو سے جس کے عالم امکاں بہار ہے
وہ نو بہار ناز ابھی رہ گزر میں ہے

علی سردار جعفری




مقتل شوق کے آداب نرالے ہیں بہت
دل بھی قاتل کو دیا کرتے ہیں سر سے پہلے

love's killing grounds has etiquette that is truly apart
before the killer takes your head you have to give your heart

علی سردار جعفری




کمی کمی سی تھی کچھ رنگ و بوئے گلشن میں
لب بہار سے نکلی ہوئی دعا تم ہو

علی سردار جعفری




کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا
راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا

علی سردار جعفری




اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میری
کہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نے

علی سردار جعفری




اسی دنیا میں دکھا دیں تمہیں جنت کی بہار
شیخ جی تم بھی ذرا کوئے بتاں تک آؤ

علی سردار جعفری




انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہو
بہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیں

علی سردار جعفری