تعبیر بتائی جا چکی ہے
اب آنکھ کو خواب دیکھنا ہے
احمد عطا
میں تیری روح میں اترا ہوا ملوں گا تجھے
اور اس طرح کہ تجھے کچھ خبر نہیں ہونی
احمد عطا
میں تو مٹی ہو رہا تھا عشق میں لیکن عطاؔ
آ گئی مجھ میں کہیں سے بے دماغی میرؔ کی
احمد عطا
میں اس کی آنکھوں کے بارے میں کچھ نہیں کہتا
افق سے تا بہ افق اک جہاں سمجھ لیجے
احمد عطا
نارسائی نے عجب طور سکھائے ہیں عطاؔ
یعنی بھولے بھی نہیں تم کو پکارا بھی نہیں
احمد عطا
پھر کوئی دور ہوا جاتا ہے
پھر کوئی دل کے قریب آئے گا
احمد عطا
سڑک پہ بیٹھ گئے دیکھتے ہوئے دنیا
اور ایسے ترک ہوئی ایک خودکشی ہم سے
احمد عطا
یہ ترا ہجر عطا درد عطا کرب عطا
اب عطاؔ کیسے جیے تیری عطاؤں کے بغیر
احمد عطا
یہ جو راتوں کو مجھے خواب نہیں آتے عطاؔ
اس کا مطلب ہے مرا یار خفا ہے مجھ سے
احمد عطا

