گنبدوں کو دھوپ کی لمبی زبانیں کھا گئی ہیں
صحن میں زنجیر سے جکڑے ہوئے خارش زدہ
بیمار کتے
بھونکتے ہیں
اور چھپر اڑ رہے ہیں
سرد آور تاریک کمروں میں بچھے قالین
ملبہ سونگھتے ہیں
اون اور ریشم کے رنگیں پھول
مرجھانے لگے ہیں
اور اب خوں بھی نہیں ہے
جس سے سینچا جائے ان کو
اک کبوتر اس حویلی سے کھلی نیلی فضا میں
اڑ گیا ہے
اور کتے بھونکتے ہیں
نظم
یہ حویلی گر رہی ہے
شرون کمار ورما