EN हिंदी
سنبھالا | شیح شیری
sambhaala

نظم

سنبھالا

ضیا جالندھری

;

تنہائی شکستہ پر سمیٹے
آکاش کی وسعتوں پہ حیراں

حسرت سے خلا میں تک رہی ہے
یادوں کے سلگتے ابر پارے

افسردہ دھوئیں میں ڈھل چکے ہیں
پہنائے خیال کے دھندلکے

اب تیرہ و تار ہو گئے ہیں
آنسو بھی نہیں کہ رو سکوں میں

یہ موت ہے زندگی نہیں ہے
اب آئے کوئی مجھے اٹھا کر

اس اونچے پہاڑ سے پٹک دے
ہر سمت فضائیں چیخ اٹھیں

بادل بھی گرج گرج کے برسیں
کوندوں کے کڑکتے تازیانے

لہرائیں گھنی سیاہ شب کے
سینے میں کئی شگاف کر دیں

تاریکیاں پھر لپک کے اٹھیں
آپس میں لپٹ لپٹ کے لرزیں

اور ٹوٹتے گرتے لاکھوں اشجار
کہتے رہیں مجھ سے سنبھلو سنبھلو

میں سخت و سیاہ پتھروں سے
ٹکراتا ہوا لڑھکتا جاؤں

اس شور میں کوئی کہہ رہا ہو
یہ موت نہیں ہے زندگی ہے