EN हिंदी
رینگے لمحوں کا خوف | شیح شیری
renge lamhon ka KHauf

نظم

رینگے لمحوں کا خوف

کوثر نیازی

;

میں ایٹم بم کے ڈھیر پہ بیٹھا سوچ رہا تھا
یہ روشنیوں اور رنگوں کا سیلاب رواں

یہ ریشم کے لچھوں ایسا نرم بدن
یہ برف کے گالے سے اس ننھے سیب کی نیند

یہ اس کی فرشتوں جیسی معصومانہ ہنسی
یہ گندم کے دانوں سے ننھے ننھے دانت

یہ کلیوں کی مانند تر و تازہ رخسار
یہ گیسوں کی خوشبو سے ناواقف ناک

یہ سگریٹ کے دھوئیں سے بیگانہ دہن
یہ میرے اپنے دل سی کشادہ پیشانی

یہ صبح کی پہلی کرنوں جیسے اس کے بال
یہ سب کچھ اس کا اپنا ہے لیکن پھر بھی

یہ سب کچھ آخر کب تک اس کا اپنا ہے
یہ میرا اپنا خون ہے میرے ہاتھوں میں

یا میری سہمی سہمی بے خواب آنکھوں میں
یہ مستقبل کا کوئی بھیانک سپنا ہے

میں خود اپنی ہی سوچوں کے پر نوچ رہا تھا
میں ایٹم بم کے ڈھیر پہ بیٹھا سوچ رہا تھا