EN हिंदी
پذیرائی | شیح شیری
pazirai

نظم

پذیرائی

ثمینہ راجہ

;

دل بڑھا اس کی پذیرائی کو
ہاتھوں میں اٹھائے

سبز جگنو
نقرئی گل

سرخ نارنجی سنہری کانپتی لو کا چراغ
ایسی گل رو تھی کہ جب آتی نظر کے سامنے

ساری سمتوں میں مہک اٹھتے تھے باغ
ایسی مہ رخ تھی اندھیرے میں بھی

جب دل کے قریب آتا کبھی اس کا خیال
اس ادا سے سر پہ رکھے

چاند تاروں سے بھرا پورا فلک
جیسے ہو اک چھوٹا سا تھال

ایسی دلبر تھی کہ جب رکھ دیتی
دل کے دل پہ ہاتھ

بھول جاتا زندگی کے رنج
غیروں کے دیے سب زخم

اپنوں سے سنی ہر تلخ بات
اور گئی تو لے گئی

ہر اک خوشی ہر روشنی کو اپنے ساتھ
زندگی کیا جگمگاتی

بجھ گئی جب کائنات
کس طرح زندہ رہا دل

عادتاً دھڑکا کیا دل
راستے میں

بس اسی کے راستے میں
عمر بھر ٹھہرا رہا دل

اور زہے قسمت چلی آتی ہے پھر سے
اپنے چہرے پر سجائے

اک ندامت
مسکراہٹ میں خجالت

آنکھ میں لیکن وہی پہلی قیامت
کھل اٹھا ہے دل

بڑھا ہے سر پہ رکھے
جھلملاتی آرزوؤں اور امیدوں کا تاج

دل بڑھا
پہلی محبت

اور نئے غم کی پذیرائی کو آج