موم کی گڑیا
خالی آنکھوں سے
اپنی خالی مٹھی کو
پگھلتے دیکھ رہی ہے
کل تک
ترازو اس کے ہاتھ میں تھی
آج
ایک فیصلہ دینے کے بعد
مجرم بنی کھڑی ہے
اور اپنی خالی مٹھی کو پگھلتا دیکھ رہی ہے
نظم
موم کی گڑیا
شیریں احمد
نظم
شیریں احمد
موم کی گڑیا
خالی آنکھوں سے
اپنی خالی مٹھی کو
پگھلتے دیکھ رہی ہے
کل تک
ترازو اس کے ہاتھ میں تھی
آج
ایک فیصلہ دینے کے بعد
مجرم بنی کھڑی ہے
اور اپنی خالی مٹھی کو پگھلتا دیکھ رہی ہے