EN हिंदी
میں اور تو | شیح شیری
main aur tu

نظم

میں اور تو

محمد علوی

;

خدا وند.... مجھ میں کہاں حوصلہ ہے
کہ میں تجھ سے نظریں ملاؤں

تری شان میں کچھ کہوں
تجھے اپنی نظروں سے نیچے گراؤں

خدا وند مجھ میں کہاں حوصلہ ہے
کہ تو

روز اول سے پہلے بھی موجود تھا
آج بھی ہے

ہمیشہ رہے گا
اور میں

میری ہستی ہی کیا ہے
آج ہوں

کل نہیں ہوں
خدا وند مجھ میں کہاں حوصلہ ہے

مگر آج اک بات کہنی ہے تجھ سے
کہ میں آج ہوں

کل نہیں ہوں
یہ سچ ہے مگر

کوئی ایسا نہیں ہے
کہ جو میرے ہونے سے انکار کر دے

کسی میں یہ جرأت نہیں ہے
مگر تو

بہت لوگ کہتے ہیں تجھ کو
کہ تو وہم ہے

اور کچھ بھی نہیں ہے