EN हिंदी
محبوبہ بھی ایسی ہو | شیح شیری
mahbuba bhi aisi ho

نظم

محبوبہ بھی ایسی ہو

ابو بکر عباد

;

دور کہیں
کوئل کی کو‌ کو گونج رہی ہے

نیل گگن پہ کالے بادل ڈول رہے ہیں
اور کھیتوں میں پگلی پون

ہرے بھرے مکے کے مکھ کو چوم رہی ہے
اک عاشق جو محبوبہ سے بچھڑ گیا ہے

اونچی فصلوں بانس کے جھنڈوں میں وہ اس کو ڈھونڈ رہا ہے
کاش کہ میرا گاؤں ہو ایسا

محبوبہ بھی ایسی ہو
رنگ برنگی تتلیاں اڑ کر جس کا پتہ بتاتی ہوں