دور کہیں
کوئل کی کو کو گونج رہی ہے
نیل گگن پہ کالے بادل ڈول رہے ہیں
اور کھیتوں میں پگلی پون
ہرے بھرے مکے کے مکھ کو چوم رہی ہے
اک عاشق جو محبوبہ سے بچھڑ گیا ہے
اونچی فصلوں بانس کے جھنڈوں میں وہ اس کو ڈھونڈ رہا ہے
کاش کہ میرا گاؤں ہو ایسا
محبوبہ بھی ایسی ہو
رنگ برنگی تتلیاں اڑ کر جس کا پتہ بتاتی ہوں

نظم
محبوبہ بھی ایسی ہو
ابو بکر عباد