اپنی پندار کی کرچیاں
چن سکوں گی
شکستہ اڑانوں کے ٹوٹے ہوئے پر سمیٹوں گی
تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی
کبھی اپنے بارے میں اتنی خبر ہی نہ رکھی تھی
ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی
مرا حوصلہ
اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا
لیکن یہاں
خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!
نظم
خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی
پروین شاکر