ہونا سب سے بڑا الجھاوا ہے
شاخ صنوبر چاند کی آس میں جاگتی ہے
اور دن بھر سونے والے گھر کی دہلیزوں پر آ کر بیٹھتے ہیں
اور خواہش و خواب کے اندیشوں میں رات
سمٹتے پیراہن کی لذت بن کر روزن در سے جھانکتی ہے
بچے ماؤں کی گردن میں بانہیں ڈالے سوتے ہیں
خواب ہماری مائیں ہیں
خواب ہماری مائیں ہیں
اور راہ کنارے بیٹھے لڑکے گھر کو جانے والا سب سے لمبا رستہ چنتے ہیں
شادابی اس شہر میں اک دن آئی تھی
شادابی ہر شہر میں اک دن آتی ہے
اور ہر شہر کے اک گوشے میں سناٹے کی چادر تانے
ایک اکیلا گھر سوتا ہے
باری باری ایک اک آنے والا
ایک نہ اک دن اس گھر میں آتا ہے
شادابی اس شہر میں اک دن آئی تھی
اس دن شہر پناہ میں سب سے پہلا آنے والا میں تھا
اور چاند سمان جھلاجھل چہرے فانوسوں کا سوت بنے تھے
چاند اکیلا گھر
سو اک دن ہر جانے والا اس گھر میں جاتا ہے
مائیں اپنے بچوں کو اس گھر میں جا کر جنتی ہیں
بہنیں ڈھول سہاگ الاپ کے روتی ہیں
اور بیٹے
ساز سجائے میدانوں میں گھوڑے دوڑاتے ہیں
خیموں میں ہر رات الاؤ جلائے جاتے ہیں
اور زخمی جسم کو داغا جاتا ہے
اور مرنے والوں کی فہرست بنائی جاتی ہے
خواہش خواب اندیشے خوف
کبھی نہ تھکنے والے پیادے
ہم میدانی لوگ
سو اک دن ہر جانے والا اس گھر میں جاتا ہے
اس کے بعد جو ہے وہ شہر پناہ میں آنے کا پچھتاوا ہے
ہونا سب سے بڑا الجھاوا ہے
نظم
ہونا سب سے بڑا الجھاوا ہے
محمد انور خالد