بد دعا ہے
ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے
گھروں میں اترتی اذانوں میں
حکم سزا ہے
سنو بد دعا ہے
ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے
سنو ہم نے شب بھر
اسے یاد رکھا
اندھیرے کی دیوار کے سرد سینے سے لگ کر
اسے اپنے دل کے افق سے صدا دی
کبھی اپنی سانسوں کے دکھ میں پکارا
دلاسوں کی دہلیز پر
ٹوٹے خوابوں کی دھجیاں
رات بھر جاگنے کا صلہ ہے
سنو بد دعا ہے
ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے
سنو شہر والو
کہاں ہے ہمارے لہو کی بشارت
ہمارے پر اسرار خوابوں کا موسم
جسے ہم نے بچوں کی پلکوں سے سینچا
جسے ماؤں کی التجاؤں سے مانگا
ہمارا مقدر
ہواؤں میں اڑتا ہوا
موت کا ذائقہ ہے
سنو بد دعا ہے

نظم
ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے
سرمد صہبائی