ادھوری لڑکیو
تم اپنے کمروں میں پرانے سال کے بوسیدہ کلینڈر سجا کر سوچتی ہو
یہ بدن عمروں کی سازش میں نہ آئیں گے
تمہیں کس نے بتایا ہے
گھڑی کی سوئیوں کو روکنے سے دوڑتا اور ہانپتا سورج مثال نقش پا
افلاک پر جم جائے گا
تمہیں معلوم ہے عریانیوں کو ڈھانپ کر تم اور عریاں ہو رہی ہو
روز ان آنکھوں کی تکڑی میں تمہارے جسم تلتے ہیں
ہر اک شب ہاسٹل میں تاش کی بازی میں تم کو جیت کر اک جشن ہوتا ہے
ہماری خواب گاہوں میں تمہارے خواب روشن ہیں
چلی آؤ
کہ باہر برف ہے
اور اب ہمیں تم سے جدا بستر کہاں تسلیم کرتے ہیں
چلی آؤ کہ عمریں رائیگاں ہونے سے بچ جائیں!
نظم
ایک غیر علامتی نظم
جاوید انور