EN हिंदी
دوسرا جنم | شیح شیری
dusra janm

نظم

دوسرا جنم

بلراج کومل

;

اداسی گھنی اور گہری اداسی کا سایہ
شگوفوں کی سرگوشیاں

چند چہروں کے خاکے
نگاہوں کے موہوم سے دائروں میں کوئی اجنبی بے زباں روشنی

یہ نہ فردا نہ موجود
یہ منقلب ہو رہا ہے جو لمحہ

اگر یہ عمل ہے تو صرف عمل ہے
لب جوئے مے خامشی

اور صید فغاں کوئی حرف تکلم
کہیں رہ گزر پر مرے چشم و لب

اور آواز سے روشنی کی کشاکش
بہت فاصلہ ہے مرے اور میرے تصور کے ساحل میں

اس سے پرے اک جہان دگر ہے
لب جوئے مے غرق آفاق ہوں

دوسری بار شاید جنم لے رہا ہوں