کتنی یادیں
جلا چکا ہوں میں
کتنے ارماں
بجھا چکا ہوں میں
کرسیاں کھینچ کر مرے نزدیک
اپنے ماضی پہ سوچنے والے
داستاں بن رہے ہیں ماضی کی
کٹکٹاتے ہوئے وہ چلغوزے
چھیل کر منہ میں ڈالتے جائیں
اور شعلوں سے کھیلتے جائیں
یاد آئیں جو شعلہ رو لمحے
جھریوں سے اٹے ہوئے چہرے
ایک پل کے لیے دمک اٹھیں
آخری لو چراغ کی جیسے
پھر انہیں کرسیوں میں دھنس جائیں
بند آنکھوں سے مشق کرتے رہیں
حشر تک گہری نیند سونے کی
نظم
آتش دان
امین راحت چغتائی