EN हिंदी
آگ کی کہانیاں | شیح شیری
aag ki kahaniyan

نظم

آگ کی کہانیاں

تنویر انجم

;

ہاں یہ سچ ہے
کہ تم نے مجھے

اور اسے
اور پھر اسے

اور آخر میں اسے
بچا لیا

میں اک آگ میں تھی
اور میرے بعد وہ بھی

اور پھر وہ بھی
اور آخر میں وہ بھی

صرف تم باہر تھیں
تم نے سب کو دیکھا

ایک ایک کر کے
تم نے ہمیں بچا لیا

پھر ہم نے اپنی اپنی آگ کی کہانیاں سنائیں
اور تم نے سنیں

ہم نے مقابلہ کیا
اپنی اپنی آگ کے تقدس کا

اور شدت کا
اور تم سے چاہا

منصفانہ فیصلہ
تم نے الگ الگ سب کا خیال رکھا

اور میں لوٹ گئی
اپنے ادھ جلے باغ کی طرف

اور میرے بعد وہ بھی
اور پھر وہ بھی

اور آخر میں وہ بھی
اور کوئی نہیں تھا

جب اک آگ نے
تمہیں جلا دیا