EN हिंदी
زندگی تجھ کو کہیں پر تو ٹھہرنا ہوگا | شیح شیری
zindagi tujhko kahin par to Thaharna hoga

غزل

زندگی تجھ کو کہیں پر تو ٹھہرنا ہوگا

سیا سچدیو

;

زندگی تجھ کو کہیں پر تو ٹھہرنا ہوگا
رسم دنیا کو نبھاتے ہوئے مرنا ہوگا

پاؤں تھک جائیں بدن کانپے یا دل گھبرائے
جلتے صحرا سے ہمیں روز گزرنا ہوگا

کیا وہی موج بلا کیا وہی منجدھار کا خوف
غم کے دریاؤں سے اب پار اترنا ہوگا

چھوڑ دوں کیسے ادھورا میں کوئی کام ترا
تیرے خاکے میں مجھے رنگ تو بھرنا ہوگا

لاکھ حالات تجھے کرتے ہوں مجبور سیاؔ
ٹوٹ کر بھی نہ کہیں تجھ کو بکھرنا ہوگا