EN हिंदी
زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کے | شیح شیری
zindagi ne jhele hain sab azab duniya ke

غزل

زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کے

پیرزادہ قاسم

;

زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کے
بس رہے ہیں آنکھوں میں پھر بھی خواب دنیا کے

دل بجھے تو تاریکی دور پھر نہیں ہوتی
لاکھ سر پہ آ پہنچیں آفتاب دنیا کے

دشت بے نیازی ہے اور میں ہوں اب لوگو
اس جگہ نہیں آتے باریاب دنیا کے

میں نے ان ہواؤں سے داستان غم کہہ دی
دیکھتے رہے حیراں سب حجاب دنیا کے

دیکھیں چشم حیراں کیا انتخاب کرتی ہے
میں کتاب تنہائی تم نصاب دنیا کے

ہم نے دست دنیا پر پھر بھی کی نہیں بیعت
جانتے تھے ہم تیور ہیں خراب دنیا کے