EN हिंदी
زندگی نام ہے محبت کا | شیح شیری
zindagi nam hai mohabbat ka

غزل

زندگی نام ہے محبت کا

عزیز حیدرآبادی

;

زندگی نام ہے محبت کا
مرگ انجام ہے محبت کا

کس طرح نکلے باغ سے بلبل
بوئے گل دام ہے محبت کا

خاص مجھ پر نہیں نگاہ کرم
قاعدہ عام ہے محبت کا

روح کے واسطے تن خاکی
ایک احرام ہے محبت کا

میری ضد سے ہوس پرستوں میں
نام بد نام ہے محبت کا