EN हिंदी
زندگی کیا یونہی ناشاد کرے گی مجھ کو | شیح شیری
zindagi kya yunhi nashad karegi mujhko

غزل

زندگی کیا یونہی ناشاد کرے گی مجھ کو

ہاشم رضا جلالپوری

;

زندگی کیا یونہی ناشاد کرے گی مجھ کو
یا کسی موڑ پہ آباد کرے گی مجھ کو

یہی دنیا کہ جسے قدر نہیں ہے میری
یہی دنیا کہ بہت یاد کرے گی مجھ کو

میں نے کل رات اسے اپنا بدن سونپ دیا
وہ جو کہتی تھی کہ برباد کرے گی مجھ کو

اس کا دل مثل قفس اور وہ صیاد صفت
جانے کب قید سے آزاد کرے گی مجھ کو

مر بھی جاؤں تو محبت کی کہانی ہاشمؔ
پھر نئے نام سے ایجاد کرے گی مجھ کو