EN हिंदी
زندگی ہے مختصر آہستہ چل | شیح شیری
zindagi hai muKHtasar aahista chal

غزل

زندگی ہے مختصر آہستہ چل

شاہین غازی پوری

;

زندگی ہے مختصر آہستہ چل
کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ چل

ایک اندھی دوڑ ہے کس کو خبر
کون ہے کس راہ پر آہستہ چل

دیدۂ حیراں کو اک منظر بہت
یوں ہی نظارہ نہ کر آہستہ چل

تیزگامی جس شکم کی آگ ہے
اس سے بچنا ہے ہنر آہستہ چل

جو تگ و دو سے تری حاصل ہوا
رکھ کچھ اس کی بھی خبر آہستہ چل

روز و شب یوں وقت کا دامن نہ کھینچ
دو گھڑی آرام کر آہستہ چل