EN हिंदी
زندہ رہنا ہے تو سانسوں کا زیاں اور سہی | شیح شیری
zinda rahna hai to sanson ka ziyan aur sahi

غزل

زندہ رہنا ہے تو سانسوں کا زیاں اور سہی

شکیل اعظمی

;

زندہ رہنا ہے تو سانسوں کا زیاں اور سہی
روشنی کے لیے تھوڑا سا دھواں اور سہی

صبح کی شرط پہ منظور ہیں راتیں ہم کو
پھول کھلتے ہوں تو کچھ روز خزاں اور سہی

خواب تعبیر کا حصہ ہے تو سو کر دیکھیں
سچ کے ادراک میں اک شہر گماں اور سہی

وہ برش اور میں روتا ہوں قلم سے اپنے
درد تو ایک ہیں دونوں کے زباں اور سہی

کٹ گئے اپنی ہی مٹی سے تو جلدی کیا ہے
اب زمیں اور سہی اور مکاں اور سہی