EN हिंदी
زرد موسم میں بھی اک شاخ ہری رہتی ہے | شیح شیری
zard mausam mein bhi ek shaKH hari rahti hai

غزل

زرد موسم میں بھی اک شاخ ہری رہتی ہے

ہاشم رضا جلالپوری

;

زرد موسم میں بھی اک شاخ ہری رہتی ہے
دل کے گلشن میں کوئی سبز پری رہتی ہے

تشنہ لب کون ہے وہ جس کے لئے نہر فرات
میری پلکوں کی منڈیروں پہ دھری رہتی ہے

مستقل خانہ بدوشی کا کوئی اجر نہیں
پاؤں سے لپٹی مرے در بدری رہتی ہے

اے مرے دل کے مکیں کچھ نہیں تبدیل ہوا
تم جہاں رہتے تھے شوریدہ سری رہتی ہے

جسم کے بھید تو کھل جاتے ہیں دھیرے دھیرے
روح سے روح کی تو پردہ دری رہتی ہے

دوست ہو جاتا مرا سارا زمانہ ہاشمؔ
میرے ہونٹوں پہ مگر بات کھری رہتی ہے