EN हिंदी
ذرا سے غم کے لئے جان سے گزر جانا | شیح شیری
zara se gham ke liye jaan se guzar jaana

غزل

ذرا سے غم کے لئے جان سے گزر جانا

شکیل اعظمی

;

ذرا سے غم کے لئے جان سے گزر جانا
محبتوں میں ضروری نہیں ہے مر جانا

کبھی لحاظ نہ رکھنا کسی روایت کا
جو جی میں آیا اسے ہم نے معتبر جانا

وہ ریت ریت فضا میں تری صدا کا سراب
وہ بے ارادہ مرا راہ میں ٹھہر جانا

تمام رات بھٹکنا ترے تعاقب میں
ترے خیال کی سب سیڑھیاں اتر جانا

وہ من میں چور لیے پھرنا تیرے سائے کا
گلی کے موڑ پہ دیوار و در سے ڈر جانا

شکیلؔ گاؤں کے سب لوگ سو گئے ہوں گے
اب اتنی رات کو اچھا نہیں ہے گھر جانا