EN हिंदी
زلزلے کا خوف طاری ہے در و دیوار پر | شیح شیری
zalzale ka KHauf tari hai dar-o-diwar par

غزل

زلزلے کا خوف طاری ہے در و دیوار پر

اسلم کولسری

;

زلزلے کا خوف طاری ہے در و دیوار پر
جبکہ میں بیٹھا ہوا ہوں کانپتے مینار پر

ہاں اسی رستے میں ہے شہر نگار آرزو
آپ چلتے جائیے میرے لہو کی دھار پر

پھر اڑا لائی ہوا مجھ کو جلانے کے لیے
زرد پتے چند سوکھی ٹہنیاں دو چار پر

طائر تخئیل کا سارا بدن آزاد ہے
صرف اک پتھر پڑا ہے شیشۂ منقار پر

وقت کا دریا تو ان آنکھوں سے ٹکراتا رہا
اپنے حصے میں نہ آیا لمحۂ دیدار پر

سارا پانی چھاگلوں سے آبلوں میں آ گیا
چلچلاتی دھوپ کے جلتے ہوئے اصرار پر