EN हिंदी
زہر کو مے نہ کہوں مے کو گوارا نہ کہوں | شیح شیری
zahr ko mai na kahun mai ko gawara na kahun

غزل

زہر کو مے نہ کہوں مے کو گوارا نہ کہوں

احمد ظفر

;

زہر کو مے نہ کہوں مے کو گوارا نہ کہوں
روشنی مانگ کے میں خود کو ستارہ نہ کہوں

اپنی پلکوں پہ لیے پھرتا ہوں چاہت کے سراب
دل کے صحرا کو سمندر کا کنارہ نہ کہوں

ہجر کے پھول میں وہ چہرۂ زریں دیکھوں
وصل کے خواب کو ملنے کا اشارہ نہ کہوں

مرتے مرتے بھی یہ تحریر امانت میری
موت کے بعد بھی جینے کو خسارہ نہ کہوں

اپنی تکمیل کے ہر نقش میں دیکھوں اس کو
عرصۂ دہر کو حسرت کا نظارہ نہ کہوں

حشر سے پہلے مرے حشر کی تصویر نہ بن
حرف آخر کو کسی طور دوبارہ نہ کہوں

زندگی جس کی مرے دم سے عبارت ہو ظفرؔ
کیوں کہے کوئی اسے جان سے پیارا نہ کہوں