EN हिंदी
زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے | شیح شیری
zaban tak jo na aae wo mohabbat aur hoti hai

غزل

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے

وامق جونپوری

;

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے
فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے

نہیں ملتے تو اک ادنیٰ شکایت ہے نہ ملنے کی
مگر مل کر نہ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے

یہ مانا شیشۂ دل رونق بازار الفت ہے
مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے

نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداؤں کو
چھپانے سے زمانے بھر کی شہرت اور ہوتی ہے

یہ مانا حسن کی فطرت بہت نازک ہے اے وامقؔ
مزاج عشق کی لیکن نزاکت اور ہوتی ہے