EN हिंदी
زباں خاموش رہے ترک مدعا نہ کرے | شیح شیری
zaban KHamosh rahe tark muddaa na kare

غزل

زباں خاموش رہے ترک مدعا نہ کرے

شاعر فتح پوری

;

زباں خاموش رہے ترک مدعا نہ کرے
یہ التجا بھی نہیں کم کہ التجا نہ کرے

میں ننگ عشق سمجھتا ہوں زندگی کے لیے
وہ دل جو گردش دوراں کا سامنا نہ کرے

دلا رہی ہے یقین وفا مجھے وہ نظر
یہ بات اور ہے ہر ایک سے وفا نہ کرے

اسے بہار کی رنگینیاں نصیب نہ ہوں
چمن میں رہ رہ کے چمن کا جو حق ادا نہ کرے

کبھی کبھی یہ بنائے کرم بھی ہوتی ہے
جفائے یار سے اندازۂ جفا نہ کرے

مصیبتوں سے نکھرتا ہے عشق اے شاعرؔ
دعا کو ہاتھ بھی اٹھ جائیں تو دعا نہ کرے