زباں کا قرض اترنے نہیں دیا میں نے
ہر ایک زخم کو ناسور کر لیا میں نے
یہ سوچ کر کہ کوئی آسمان منزل ہے
جنوں میں اپنا نشیمن جلا دیا میں نے
وہ جس کی شکل بھی آنکھوں کو ناگوار ہوئی
اسی کے طنز کو دل میں بسا لیا میں نے
حسد کی ایک طوائف سہائی آنکھوں کو
وفا سے اس لیے دامن چھڑا لیا میں نے
بدن کے پیڑ تھے آنکھوں کی کشتیاں تھیں جہاں
وہاں پہ ایک بھی لمحہ نہیں جیا میں نے
کہیں دلوں میں اندھیرے تھے راستوں میں کہیں
سفر تمام سیاہی میں طے کیا میں نے
غزل
زباں کا قرض اترنے نہیں دیا میں نے
مینک اوستھی

