EN हिंदी
زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نے | شیح شیری
zahid dar-e-masjid pe KHarabaat ki tu ne

غزل

زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نے

قائم چاندپوری

;

زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نے
جی بھی یوں ہی چاہے تھا کرامات کی تو نے

جانے دے بس اب یار کہ یہ بھی نہیں کچھ کم
اعمال کی دل کے جو مکافات کی تو نے

ایدھر تو میں نالاں ہوں ادھر غیر نہ جانے
اب کس سے مری جان ملاقات کی تو نے

اللہ ری محبت تری تعلیم کہ جو بات
دشوار تھی مجھ پر سو مساوات کی تو نے

قائمؔ رہ پر خوف ہے اور دور ہے منزل
کب پہنچے گا ظالم جو یہیں رات کی تو نے