EN हिंदी
یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میرا | شیح شیری
yunhi raha jo buton par nisar dil mera

غزل

یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میرا

بیخود بدایونی

;

یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میرا
کرے گا مجھ کو زمانے میں خوار دل میرا

چلی چلی مژۂ اشک بار آنکھ مری
جلا جلا نفس شعلہ بار دل میرا

عجیب مونس و ہمدرد و ذی مروت تھا
غریق رحمت پروردگار دل میرا

وفور شرم سے واں اجتناب مد نظر
ہجوم شوق سے یاں بے قرار دل میرا

بنا دیا اسے خودبین و خود نما بیخودؔ
ہوا ہے آئینۂ حسن یار دل میرا