یونہی ہم پر سب کے احساں ہیں بہت
کیوں کہیں کہ ہم پریشاں ہیں بہت
آنکھ میں رکھ لے یہ منظر پھر کہاں
راہ میں تیری بیاباں ہیں بہت
موت تو آئی ہے آئے گی مگر
اور بھی جینے میں نقصاں ہیں بہت
یاد رکھنا بھی کوئی مشکل نہیں
بھول جانے کے بھی امکاں ہیں بہت
پھر غزل کہنی ہے ہم کو اور ہم
تاش کے پتوں میں غلطاں ہیں بہت
آدمی اچھے ہیں اس میں شک نہیں
ہاں مگر علویؔ مسلماں ہیں بہت
غزل
یونہی ہم پر سب کے احساں ہیں بہت
محمد علوی

