EN हिंदी
یونہی ہم پر سب کے احساں ہیں بہت | شیح شیری
yunhi hum par sab ke ehsan hain bahut

غزل

یونہی ہم پر سب کے احساں ہیں بہت

محمد علوی

;

یونہی ہم پر سب کے احساں ہیں بہت
کیوں کہیں کہ ہم پریشاں ہیں بہت

آنکھ میں رکھ لے یہ منظر پھر کہاں
راہ میں تیری بیاباں ہیں بہت

موت تو آئی ہے آئے گی مگر
اور بھی جینے میں نقصاں ہیں بہت

یاد رکھنا بھی کوئی مشکل نہیں
بھول جانے کے بھی امکاں ہیں بہت

پھر غزل کہنی ہے ہم کو اور ہم
تاش کے پتوں میں غلطاں ہیں بہت

آدمی اچھے ہیں اس میں شک نہیں
ہاں مگر علویؔ مسلماں ہیں بہت