EN हिंदी
یوں تو کم کم تھی محبت اس کی | شیح شیری
yun to kam kam thi mohabbat uski

غزل

یوں تو کم کم تھی محبت اس کی

محمد علوی

;

یوں تو کم کم تھی محبت اس کی
کم نہ تھی پھر بھی رفاقت اس کی

سارے دکھ بھول کے ہنس لیتا تھا
یہ بھی تھی ایک کرامت اس کی

الجھنیں اور بھی تھیں اس کے لیے
ایک میں بھی تھا مصیبت اس کی

پہلے بھی پینے کو جی کرتا تھا
مل ہی جاتی تھی اجازت اس کی

خواب میں جیسے چلا کرتا ہوں
دیکھتا رہتا ہوں صورت اس کی

نام رہتا ہے زباں پر اس کا
گھر میں رہتی ہے ضرورت اس کی

اس کی عادت تھی شرارت کرنا
کاش یہ بھی ہو شرارت اس کی

پھیلتے بڑھتے ہوئے بستر میں
ڈھونڈھتا رہتا ہوں قربت اس کی

ایک بوسیدہ سا گھر چھوڑ گئی
لے گئی ساتھ وہ جنت اس کی