EN हिंदी
یوں لہکتا ہے ترے نوخیز خوابوں کا بدن | شیح شیری
yun lahakta hai tere nau-KHez KHwabon ka badan

غزل

یوں لہکتا ہے ترے نوخیز خوابوں کا بدن

پریم واربرٹنی

;

یوں لہکتا ہے ترے نوخیز خوابوں کا بدن
جیسے شبنم سے دھلے تازہ گلابوں کا بدن

مطربہ نے اس طرح چھیڑے کچھ ارمانوں کے تار
کس گیا انگڑائی لیتے ہی ربابوں کا بدن

کوئی پہناتا نہیں بے داغ لفظوں کا لباس
کب سے عریاں ہے محبت کی کتابوں کا بدن

رات ہے یا سنگ مرمر کا مقدس مقبرہ
جس کے اندر دفن ہے دو ماہتابوں کا بدن

آئینے لے کر کہاں تک ہم سرابوں کے سفیر
دھوپ کے صحراؤں میں ڈھونڈیں گے خوابوں کا بدن

جب گھلا باد صبا میں تیرے پیراہن کا لمس
اور بھی مہکا تر و تازہ گلابوں کا بدن

پریمؔ آخر صبح نو کھولے گی کب بند قبا
جھانکتا ہے چلمنوں سے آفتابوں کا بدن