EN हिंदी
یوں غیر کچھ کہیں تو بلا کو بری لگے | شیح شیری
yun ghair kuchh kahen to bala ko buri lage

غزل

یوں غیر کچھ کہیں تو بلا کو بری لگے

میر حسن

;

یوں غیر کچھ کہیں تو بلا کو بری لگے
تو کچھ نہ کہہ کہ ہم غربا کو بری لگے

تنگی کرے نہ حوصلہ اپنا کہیں بس اب
اتنی جفا نہ کر کہ وفا کو بری لگے

تجھ بن یہ زیست اپنی ہمیں یوں ہے جس طرح
قید حیات اہل فنا کو بری لگے

ہوں خاک تیرے کوچہ کی ہم اور اپنی گرد
تیری گلی سے آہ صبا کو بری لگے

ہم تو سہیں گے وہ بھی پہ لازم نہیں تجھے
اس ناز کی جفا جو ادا کو بری لگے

ہے بے حیائی حد سے جو گرمی زیادہ ہو
شوخی بہت تو مرد و نسا کو بری لگے

چوں آئینہ دل اپنا کدورت سے صاف رکھ
گرد ملال اہل صفا کو بری لگے

ہر دم جواب صاف مروت سے ہے بعید
وہ بات تو نہ کر کہ حیا کو بری لگے

اس بت کی بندگی سے نہ آزاد ہو حسنؔ
یہ بات بھی کہیں نہ خدا کو بری لگے