EN हिंदी
یوں دیدۂ خوں بار کے منظر سے اٹھا میں | شیح شیری
yun dida-e-KHun-bar ke manzar se uTha main

غزل

یوں دیدۂ خوں بار کے منظر سے اٹھا میں

دلاور علی آزر

;

یوں دیدۂ خوں بار کے منظر سے اٹھا میں
طوفان اٹھا مجھ میں سمندر سے اٹھا میں

اٹھنے کے لیے قصد کیا میں نے بلا کا
اب لوگ یہ کہتے ہیں مقدر سے اٹھا میں

پہلے تو خد و خال بنائے سر قرطاس
پھر اپنے خد و خال کے اندر سے اٹھا میں

اک اور طرح مجھ پہ کھلی چشم تماشا
اک اور تجلی کے برابر سے اٹھا میں

ہے تیری مری ذات کی یکتائی برابر
غائب سے تو ابھرا تو میسر سے اٹھا میں

کیا جانے کہاں جانے کی جلدی تھی دم فجر
سورج سے ذرا پہلے ہی بستر سے اٹھا میں

پتھرانے لگے تھے مرے اعصاب کوئی دم
خاموش نگاہوں کے برابر سے اٹھا میں

اک آگ مرے جسم میں محفوظ تھی آزرؔ
خس خانۂ ظلمات کے اندر سے اٹھا میں