EN हिंदी
یوں دیکھیے تو آندھی میں بس اک شجر گیا | شیح شیری
yun dekhiye to aandhi mein bas ek shajar gaya

غزل

یوں دیکھیے تو آندھی میں بس اک شجر گیا

راجیش ریڈی

;

یوں دیکھیے تو آندھی میں بس اک شجر گیا
لیکن نہ جانے کتنے پرندوں کا گھر گیا

جیسے غلط پتے پہ چلا آئے کوئی شخص
سکھ ایسے میرے در پہ رکا اور گزر گیا

میں ہی سبب تھا اب کے بھی اپنی شکست کا
الزام اب کی بار بھی قسمت کے سر گیا