یہ زندگی عذاب اگر ہو تو کیا کریں
اک تلخ سی شراب اگر ہو تو کیا کریں
تم سے ہمارے قلب و نظر کا معاملہ
اک وجۂ اضطراب اگر ہو تو کیا کریں
صدق و صفا کی آرزو اب کیا کرے کوئی
بند آگہی کا باب اگر ہو تو کیا کریں
فطرت میں جس کی روز ازل سے حجاب ہے
وہ حسن بے حجاب اگر ہو تو کیا کریں
رخ کو تمہارے چاند سے تشبیہ دے تو دیں
گہنایا ماہتاب اگر ہو تو کیا کریں
ہم راز دل چھپاتے مگر اپنی زندگی
پوری کھلی کتاب اگر ہو تو کیا کریں
کر لی ہے توبہ ہم نے مگر دختر عنب
مسجد میں دستیاب اگر ہو تو کیا کریں

غزل
یہ زندگی عذاب اگر ہو تو کیا کریں
جمیل عثمان