EN हिंदी
یہ زاد راہ ہمیشہ سفر میں رکھ لینا | شیح شیری
ye zad-e-rah hamesha safar mein rakh lena

غزل

یہ زاد راہ ہمیشہ سفر میں رکھ لینا

سید شکیل دسنوی

;

یہ زاد راہ ہمیشہ سفر میں رکھ لینا
بچھڑے وقت کا منظر نظر میں رکھ لینا

ملے تو راس بھی آئے لکیر ہاتھوں کی
یہ اک کمال بھی دست ہنر میں رکھ لینا

سفر ہے لوٹ کے آنا اگر نصیب نہ ہو
سجا کے یاد مری چشم تر میں رکھ لینا

ہماری زد میں ہے پوری طرح فصیل شب
ہمارا نام نمود سحر میں رکھ لینا

کسی کی یاد کی خوشبو سفر میں ساتھ چلے
کسی کے ہجر کا موسم نظر میں رکھ لینا