EN हिंदी
یہ واہمے بھی عجب بام و در بناتے ہیں | شیح شیری
ye wahime bhi ajab baam-o-dar banate hain

غزل

یہ واہمے بھی عجب بام و در بناتے ہیں

عباس تابش

;

یہ واہمے بھی عجب بام و در بناتے ہیں
ہوا کی شاخ پہ خوشبو کا گھر بناتے ہیں

کف خیال پہ عکس نشاط رنگ ترا
نہیں بنانے کا یارا مگر بناتے ہیں

یہ مشغلہ ہے ترے آشیاں پرستوں کا
کہ زیر دام پڑے بال و پر بناتے ہیں

وہ اپنی مرضی کا مطلب نکال لیتا ہے
اگرچہ بات تو ہم سوچ کر بناتے ہیں

میں جب بھی دھوپ کے صحرا میں جا نکلتا ہوں
وہ ہاتھ مجھ پہ دعا کا شجر بناتے ہیں

مری مثال ہے ان سبز شاخچوں جیسی
جو دھوپ کات کے ملبوس زر بناتے ہیں

ہم اس کو بھول کے کرتے ہیں شاعری تابشؔ
کمال بے ہنری سے ہنر بناتے ہیں