EN हिंदी
یہ اجڑے باغ ویرانے پرانے | شیح شیری
ye ujDe bagh virane purane

غزل

یہ اجڑے باغ ویرانے پرانے

حبیب جالب

;

یہ اجڑے باغ ویرانے پرانے
سناتے ہیں کچھ افسانے پرانے

اک آہ سرد بن کر رہ گئے ہیں
وہ بیتے دن وہ یارانے پرانے

جنوں کا ایک ہی عالم ہو کیوں کر
نئی ہے شمع پروانے پرانے

نئی منزل کی دشواری مسلم
مگر ہم بھی ہیں دیوانے پرانے

ملے گا پیار غیروں ہی میں جالبؔ
کہ اپنے تو ہیں بیگانے پرانے